کشمیراور آزادی
کی منزل؟
قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ601)
ہمارے حکمران،سیاستدان اور میڈیا کے پنڈت 8جولائی کو برہان وانی شہید
اور5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناکر سال کے بقیہ363 دن۔۔۔آپس کے لڑائی جھگڑوں۔۔۔
سیاسی اور فکری انتشار پھیلانے میں مصروف رہیں گے۔۔۔ تو پھر کشمیریوں سے آزادی کی
منزل دور ہوتی جائیگی۔۔۔۔ پاکستانی حکمرانوں اور میڈیا کی اس سے بڑھ کر بے حسی کیا
ہو گی کہ۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو توڑ کر۔۔۔ چلتی لاٹھیوں اوربرستی گولیوں میں بھی۔۔۔
کشمیری مسلمان پاکستانی پرچم لہراتے ہیں۔۔۔ جبکہ ادھر پاکستان میں حکمرانوں اور میڈیا
کو جے آئی، ٹی اور قطری شہزادے کی فکر کھائے جارہی ہوتی ہے۔
بدنامِ زمانہ دہشتگرد نریندر مودی کشمیری مجاہدین سے مقابلہ کرنے کیلئے
نئے نئے طریقے سیکھنے اسرائیل تک جا پہنچا۔۔۔ نریندرمودی، یہودی وزیراعظم نیتن یاہو
اور اسرائیل میں قادیانیوں کے سربراہ شریف عودہ تین دن تک آپس میں مل بیٹھے۔۔۔۔ اور
پھر ان تینوں شیطانوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر، ہندوستان اور پاکستان کے مسلمانوں کے
خلاف۔۔۔ کیا ، کیا خوفناک منصوبے بنائے گئے ہوں گئے؟ یہ سوچ کر ہی جھر جھری آجاتی
ہے۔
افسوس کہ پاکستان اور عالم اسلام اجتماعی طور پر لیڈر شپ کے فقدان کا
شکار چلا آرہا ہے، مثلاً ہندوستان آبادی اورفوج کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا بڑا
ملک ہے۔۔۔ اس کا وزیراعظم نریندر مودی۔۔۔ ہندوستان کی اکثریتی ہندو آبادی کی نہ صرف
یہ کہ نمائندگی کرتا ہے۔۔۔ بلکہ ہندو ازم کے غلبے کے لئے حکومتی طاقت اور پیسہ بھی
بے دریغ استعمال کرتا ہے۔۔۔ اسرائیل کا وزیراعظم
نیتن یاہو ۔۔۔۔ اول و آخر پہلے’’یہودی‘‘ ہے اور پھر کچھ اور۔۔۔ امریکہ کا صدر
ڈونلڈٹرمپ متعصب ترین عیسائی ہے۔۔۔ جب عیسائیت کے پھیلاؤ کے لئے سپر پاورمعاون ہو
گی۔۔۔یہودیت اور ہندو ازم کے پھیلاؤ کے لئے۔۔۔۔ اسرائیل اور بھارت کی حکومتیں اپنا
سب کچھ لٹانے پر آمادی ہونگی تو پھر حالات کی شدت و حدت میں اضافہ تو ہو گا ہی!
اب آتے ہیں پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی طرف۔۔۔ یہ بے چارے
ہروقت۔۔۔ ہر حال میں۔۔۔ اور ہر جگہ طاغوتی قوتوں کے سامنے جھکنے کے لئے آمادہ و تیار
رہتے ہیں۔۔۔ان کا اپناکوئی ویژن ہے اور نہ سوچ۔۔۔۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں
کے قاتل اور بدنام زمانہ دہشت گردکو رائے ونڈ جاتی امراء محل میں بلا لیتے ہیں۔۔۔۔
قاتل مودی کو گھر بلا کر تحفے دیتے بھی ہیں اور اس سے تحفے لیتے بھی ہیں۔۔۔اگر مودی
پاکستان نہ آسکے تو اس کو دہلی میں ہی کبھی ساڑھیاں اور کبھی آموں کی پیٹیاں بھجوائی
جاتی ہیں۔۔۔ پاکستانی میڈیا مکتی باہنی کے اکٹھ کا نام ہے۔۔۔ کیونکہ اکھنڈ بھارت کی
سوچ کو پروان چڑھانے والے منحوس میڈیاکے افق پر چھائے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے حکمران،سیاست دان اورمیڈیا کے پردھان۔۔۔ آدھے تیترہیں اور
آدھے بٹیر۔۔۔ یہ اللہ کو راضی کرنا بھی چاہیں تو بھی ’’امریکہ‘‘ کے ڈر سے کر نہیں
پاتے۔۔۔ اس لئے یہ بے چارے کبھی روشن خیال بنتے ہیں، کبھی سیکولر اور کبھی لبرل۔۔۔۔
لیکن ساتھ ہی ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کم از کم ہر رمضان میں اعتکاف مسجد نبویؐ میں کیا
جائے؟
ویسے’’شریف‘‘ برادران اس لحاظ سے کلیئر ہیں۔۔۔ کہ انہوں نے اپنے دامن
پر کشمیری مجاہدین کی حمایت کا۔۔۔ کبھی کوئی ’’داغ‘‘ دھبہ نہیں لگنے دیا۔۔۔ بلکہ اسلام
آباد ، لاہور یا رائے ونڈ میں رہنے کے باوجود ان کے دل، دہلی کے حکمرانوں کے دلوں
کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔۔۔
رہ گیا سعودی عرب تو وہاں کے بادشاہ بھی امریکی رتھ پرسوار ہو کر پھولے
نہیں سماتے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ سعودی عرب کے دفاع کی آڑمیں کب تک ہزاروں
بیرل تیل یومیہ کی بنیاد پر امت مسلمہ کو نقصان پہنچاتا رہے گا؟
امریکہ اور ایران کی دشمنی کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے
ہیں، اور آنے والے دنوں میں انہیں خود ہی اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے گا۔۔۔ وزیراعظم
نواز شریف سپریم کورٹ اور فوج کے ساتھ مقابلے کیلئے توتیار رہتے ہیں، مگر’’مودی‘‘ جیسے
موذی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہوئے نجانے یہ شرما کیوں جاتے ہیں؟
’’شہزادی‘‘
مریم صفدر میڈیا کے سامنے کہتی ہیں کہ’’نواز شریف سے سازشی ڈریں‘‘
یعنی پاکستان میں ہر کوئی نواز شریف سے ڈرے۔۔۔ لیکن نواز شریف صرف ’’امریکہ‘‘سے ڈریں،پاکستانی قوم اور اداروں
کو ڈرا کر۔۔۔۔ امریکہ اور بھارت سے ڈرنے کا خبط جانے کیوںحکمران مافیاء کے سروں پر
سوار رہتا ہے۔
حکمرانوں کو مافیا کہنا اس خاکسار کی ایجاد نہیں ہے۔۔۔ بلکہ سپریم کورٹ
کے جسٹس عظمت سعید اپنے ریمارکس میں حکومت کو’’مافیا‘‘ قراردے چکے ہیں۔
پاکستان کی بالا دست قوتوں کی مسئلہ کشمیر سے کمنٹمنٹ کا اندازہ لگائیے
کہ 8جولائی کو جب مقبوضہ کشمیر کے مسلمان کرفیو توڑ کر شہداء کشمیر سے محبت کے نعرے
لگا رہے تھے۔۔۔ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے ہمارے پانچ شہری شہید کر چکے
تھے۔۔۔ تب عین انہی لمحات میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام۔۔۔ ان سات کالے فٹ بالروں کی
آؤبھگت اور استقبال میں مصروف تھے کہ جنہوںنے پاکستان میں دوفٹ بال میچ کھیل کر30کروڑ
سے زائد فیس وصول کرنی ہے۔
چنانچہ پاکستانی الیکٹرانک چینلز نے کشمیر کے احتجاج کو کوریج دینے کی
بجائے۔۔۔ اصل فوکس فٹ بالروں پر رکھا، اصل بات پھر وہی ہے کہ پاکستان کو ایسے لیڈر
کی ضرورت ہے کہ۔۔۔۔ جو طاغوت کا غلام نہیں، بلکہ اول و آخر مسلمان ہو۔
پھر پاکستانی قوم کے درد کو وہ محسوس کر کے بے گناہ۔۔۔۔ کشمیریوں کے لہو
کااحترام کرے، پھر دیکھیں کہ کشمیر آزاد ہوتا ہے یانہیں؟کشمیردودن منانے سے آزاد
نہیں ہوگا۔۔۔ بلکہ اپناہردن، ہمیں کشمیر کی آزادی کے لئے وقف کرنا پڑے گا۔۔۔۔
٭…٭…٭
Subscribe to:
Posts (Atom)
